وقت گزر جاتا ہے، چہرے بدل جاتے ہیں، عہدے ختم ہو جاتے ہیں، دولت آتی جاتی رہتی ہے، مگر انسان کے رویّے لوگوں کی یاد میں باقی رہتے ہیں۔ کسی کو یہ یاد نہیں رہتا کہ آپ کے پاس کتنی چیزیں تھیں، لیکن یہ ضرور یاد رہ سکتا ہے کہ آپ نے اُس کے کمزور وقت میں اُس کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔ آپ نے کسی کی عزت بچائی تھی یا مجمعے میں اُسے رسوا کیا تھا؛ کسی کی مدد کی تھی یا اُس کی مجبوری سے فائدہ اٹھایا تھا۔ آخرکار انسان اپنی چیزوں سے نہیں، اپنےپیچھے چھوڑے ہوئے احساس سے پہچانا جاتا ہے