حسد اور ایک خاموش مقابلہ

معاشرے میں حسد ایک ایسا رویہ ہے جو ہمیشہ چھپا رہتا ہے مگر اثر بہت گہرا ڈالتا ہے۔ لوگ کھل کر حسد کا اظہار نہیں کرتے، بلکہ اسے خاموشی سے اپنے اندر جمع کیے رکھتے ہیں۔ کسی کی کامیابی پر مسکراہٹ تو اپنے چہرے پر لے آتے ہیں، مگر اندر سے بے چین ضرور ہو جاتے ہیں۔اور ان کی یہ بے چینی بعد میں تنقید، بے رخی، اور باتوں میں تفریق،کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ لوگ دوسروں کی ترقی کو کہیں نہ کہیں اپنی ناکامی سمجھنے لگتے ہیں۔ اگر کوئی کامیاب ہو جائے تو اسے قسمت کا اچھا کہا جاتا ہے، لیکن اس کی محنت کا تذکرہ نہیں کیا جاتا۔ یہ رویہ اتنا عام ہو چکا ہے کہ بہت سے رشتے اسی خاموش مقابلے کی نذر ہو جاتے ہیں۔ بہن بھائی، دوست، اور یہاں تک کہ قریبی رشتے دار بھی ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے لگتے ہیں۔ کامیابی کی خوشی کو چھپایا جاتا ہے، تاکہ حسد پیدا نہ ہو۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ اپنی کامیابیوں سے بھی پورا لطف نہیں اٹھا پاتے۔ حسد انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ وہ دوسروں کی زندگی دیکھ کر اپنی زندگی سے ناراض ہونے لگتا ہے۔ اس زہر سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنے آپ پر اور اپنی محنت پر توجہ دے اور دوسروں کی کامیابی کو اپنی ناکامی نہ سمجھے۔ مگر معاشرہ اس سوچ کو فروغ نہیں دیتا۔ وہ مقابلے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اور حسد کو خاموشی سے قبول کر لیتا ہے۔ جو شخص اس حقیقت کو پہچان لیتا ہے، وہ کم از کم اپنے دل سے اس زہر کو نکالنے کی کوشش ضرور کرتا ہے۔

خاک زادہ


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

حسد اور ایک خاموش مقابلہ