انسان کی ایک عجیب عادت ہے کہ وہ دوسروں کے رویوں کو چند لمحوں میں سمجھ لینے کا دعویٰ کر لیتا ہے، مگر ان رویوں کے پیچھے چھپے ہوئے حالات کے بارے میں جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتا۔ کوئی شخص اگر خاموش طبعیت کا ہو تو ہم اسے مغرور سمجھ لیتے ہیں، کوئی زیادہ باتونی ہو تو اسے دکھاوا یا بناوٹی کہہ دیتے ہیں، کوئی ہم سے دور رہنے چاہیے تو اسے بے وفائی کے زمرے میں لے آتے ہیں۔ ہمیں اس بات میں دلچسپی ہوتی ہے کہ سامنے والا ہمیں کیسا دکھائی دے رہا ہے،لیکن اس بات سے کم کہ وہ اندر سے کن حالات سے گزر رہا ہے۔شاید اسی چیز نے ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے فاصلے پیدا کیے ہیں جو کبھی پیدا ہی نہیں ہونے چاہیے تھے۔ ہم لوگوں کے ایک لمحے کو دیکھ کر ان کی پوری شخصیت کا فیصلہ کر دیتے ہیں۔ کسی کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر سمجھ لیتے ہیں کہ وہ خوش ہے، اور کسی کی خاموشی دیکھ کر فیصلہ کر لیتے ہیں کہ اسے کسی کی پروا نہیں۔ حالانکہ انسان کے اندر چلنے والی جنگ ہمیشہ چہرے پر نظر نہیں آتی۔کسی کو سمجھنے کے لیے صرف اس کے الفاظ سننا کافی نہیں ہوتا، کبھی کبھی اس کی خاموشی بھی سننی پڑتی ہے۔ ہر بدلا ہوا رویہBad intention نہیں ہوتا، ہر فاصلے کے پیچھے نفرت نہیں ہوتی اور ہر خاموش شخص بے حس نہیں ہوتا۔ بعض اوقات انسان اندر سے اور حالات کے پیش نظر اتنا تھک چکا ہوتا ہے کہ وضاحت کرنے کی طاقت نہیں رہتی۔ شاید ہمیں دوسروں کے بارے میں فیصلے سنانے سے پہلے ایک لمحے کے لیے یہ سوچ لینا چاہیے کہ اگر ہم اس شخص کی جگہ ہوتے تو کیا ہم بھی بالکل ایسے ہی نہ ہوتے؟