کمزور اور طاقتور کا انصاف

اس معاشرے کا ڈھانچہ اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ قانون کی گرفت صرف اس کے لیے ہے جس کے پاس اپنا دفاع کرنے کے لیے وسائل کم ہیں یا ہیں ہی نہیں۔ ایک عام انسان سے چھوٹی سی غلطی بھی ہو جائے تو اسے اخلاقیات اور آئین کے تمام اسباق یاد دلا کر ذلیل کر دیا جاتا ہے، جبکہ بااثر طبقہ کھلم کھلا جرم کر کے بھی اسے اپنی “ذہانت” یا “حکمت عملی” کا نام دے کر نکل جاتا ہے۔ انصاف اب حق سچ کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اس بات پر ملتا ہے کہ عدالت کے باہر آپ کی حیثیت کتنی اونچی ہے۔ اس تفریق نے عام انسان کے اندر سے قانون کا احترام اور ریاست پر اعتماد ختم کر دیا ہے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top