ہر مسکراہٹ کے پیچھے خلوص نہیں ہوتا

انسانی رویّوں کی سب سے پیچیدہ حقیقت یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو ہمارے سامنے مسکراتا ہے، ضروری نہیں کہ ہمارے لیے اچھا بھی سوچتا ہو۔ کچھ لوگ تعلقات کو خلوص سے نبھاتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اپنے مفاد کے لیے اپنائیت کا لباس اوڑھ لیتے ہیں۔ اُن کے الفاظ میں محبت، لہجے میں مٹھاس اور رویّے میں قربت دکھائی دیتی ہے، لیکن جیسے ہی اُن کا مقصد پورا ہوتا ہے، اُن کے انداز بدلنے لگتے ہیں۔یہ حقیقت بھی سمجھنے کے قابل ہے کہ منافقت ہمیشہ نفرت کی صورت میں سامنے نہیں آتی۔ کبھی یہ تعریف کے اندر چھپی ہوتی ہے، کبھی خیرخواہی کے مشورے میں اور کبھی ایسے سوالات میں جن کا مقصد آپ کی بہتری نہیں بلکہ آپ کی کمزوریوں کو جاننا ہوتا ہے۔ اسی لیے زندگی میں صرف الفاظ کی بنیاد پر کسی کو اپنا سمجھ لینا عقلمندی نہیں۔ انسان کو اُس کے مستقل رویّے، مشکل وقت میں اُس کے کردار اور دوسروں کی غیر موجودگی میں اُس کی گفتگو سے پہچاننا چاہیے۔لیکن ہر شخص پر شک کرنا بھی عقل مندی نہیں۔ اگر ہم چند تلخ تجربات کی وجہ سے سب کو ایک ہی نظر سے دیکھنے لگیں تو اپنے لیے خلوص رکھنے والے لوگوں کو بھی خود سے دور کر دیں گے۔ بہترین راستہ یہ ہے کہ دل میں نرمی رکھی جائے، مگر فیصلوں میں سمجھ داری اختیار کی جائے۔ اعتماد ضرور کریں، لیکن اتنا کہ کسی کی حقیقت سامنے آنے پر آپ کا اپنا وجود گم نہ ہو جائے۔زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر تعلق کو نام دینا ضروری نہیں، لیکن ہر تعلق کی حقیقت سمجھنا ضروری ہے۔ بعض اوقات خاموشی سے لوگوں کو پرکھنا، اُن کے دعووں پر یقین کرنے سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ چہرے دیکھ کر تعلق نہ بنائیں، کردار دیکھ کر اعتماد کریں کیونکہ الفاظ وقتی طور پر دل جیت سکتے ہیں، مگر حقیقت ہمیشہ رویّوں سے ظاہر ہوتی ہے۔

خاک زادہ

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top