انسان کی قدر اس کی موجودگی میں کیوں نہیں ہوتی

انسان کی فطرت بھی عجیب ہے۔ جو چیز آسانی سے میسر ہو، اُس کی اہمیت کم محسوس ہونے لگتی ہے، اور جو چیز ہاتھ سے نکل جائے، اُس کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگوں کو کسی کی اہمیت اُس کے چلے جانے کے بعد سمجھ آتی ہے۔ پھر یادیں باقی رہ جاتی ہیں، مگر اُن یادوں کو حقیقت میں بدلنے کا موقع ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔اصل سمجھ داری یہ نہیں کہ کسی کے چلے جانے کے بعد اُس کی خوبیاں گنی جائیں، بلکہ یہ ہے کہ اُس کی موجودگی میں اُس کی قدر کی جائے۔رشتے میں محبت صرف خوب صورت الفاظ کہنے کا نام نہیں، بلکہ کسی کے احساسات کو سمجھنے، اُس کی بات سننے اور اُس کی موجودگی کو اہمیت دینے کا نام ہے۔یاد رکھیے، ہر خاموش انسان بے حس نہیں ہوتا اور ہر برداشت کرنے والا ہمیشہ برداشت نہیں کرتا۔ بعض اوقات لوگ شکایت کرنا چھوڑ دیتے ہیں، کیونکہ وہ سمجھ جاتے ہیں کہ اُن کے احساسات کی وضاحت اب بے معنی ہے۔ جب کوئی شخص دل سے دور ہو جائے تو اُس کی واپسی ممکن بھی ہو، مگر پہلے جیسا تعلق ہمیشہ واپس نہیں آتا۔لوگوں کی قدر اُن کے بچھڑنے کے بعد نہیں، اُن کی موجودگی میں کرنا سیکھیں، کیونکہ بعض کمیوں کا احساس اُس وقت ہوتا ہے جب اُنہیں پورا کرنے کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔

خاک زادہ

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top