ہم ایک ایسے دور میں سانپ اور سیڑھی کا کھیل کھیل رہے ہیں جہاں انسانی رویوں کی گہرائی بلکل ہی ختم ہو چکی ہے۔ لوگ دلوں کے بجائے دماغ سے رشتوں کو نبھاتے ہیں اور یہی ہمارے دور کا سب سے بڑی حقیقت ہے۔ ہم نے لفظوں کی خوبصورتی کے پیچھے خلوص کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا ہے۔ چہروں پر مصنوعی مسکراہٹ اور دل میں حسد کا زہر رکھنا اب ایک روایتی عمل بن چکا ہے۔ہمارے رویوں کی سب سے بڑی تلخی یہ ہے کہ ہم دوسروں کی مجبوریوں کو انہی کا قصور سمجھتے ہیں۔ جب کوئی شخص گرے تو اسے سنبھالنے کے بجائے اس کی گرنے کی وجہ پر بات کرنا، اور اس کی بے بسی کو گفتگو کا موضوع بنانا ہمارا پسندیدہ عمل بن چکا ہے۔ ہم ہمدردی کا مظاہرہ صرف وہاں کرتے ہیں جہاں سے ہمیں مستقبل میں کسی فائدے یا تعریف کی توقع ہوتی ہے۔ بغیر کسی غرض کے کسی کے کام آنا اب ایک نایاب خصوصیت بن کر رہ گئی ہے۔ہماری اس پسماندہ سوچ کا عکس ہمارے گھروں اور تعلقات پر بھی صاف نظر آتا ہے۔ سچے انسان کو بیوقوف اور چالاک شخص کو عقلمند سمجھا جاتا ہے۔ تنقید ہمارا پیشہ بن چکا ہے اور تعریف میں ہمارا دل سکر جاتا ہے۔ جب تک ہم رویوں کی اس منافقت کو تسلیم کر کے اپنے رویوں میں نرمی، سچائی اور خلوص شامل نہیں کریں گے، تب تک ہمارا معاشرہ ایسے ہی اندر سے کھوکھلا ہوتا رہے گا۔
خاک زادہ