آج کا انسانی معاشرہ ترقی کی راہوں پر زور و شور سے گامزن ہے، لیکن اخلاقی اور روحانی طور پر بہت زیادہ زوال کا شکار ہے۔ ہمارے ماحول کی سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انسان کی قدر و قیمت کا معیار اس کے اخلاق کے بجائے اس کی صورت اور معاشی حیثیت کو بنا دیا ہے۔ یہ ایک ایسا خاموش عمل بن چکا ہے جہاں انسان کو نہیں بلکہ اس کی طرف سے دیے گئے منافع کو دیکھا جاتا ہے۔اس معاشرتی بگاڑ کی اصل وجہ ہمارے بدلتے ہوئے رویے ہیں۔ ہمدردی، برداشت اور اخلاص کی جگہ اب خود غرضی، منافقت اور ظاہری نمائش نے لے لی ہے۔ لوگ چہروں پر ہمدردی کا نقاب اوڑھ کر ملتے ہیں، مگر اندر سے دوسروں کی نا کام ہونے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ ہم دوسروں کی زندگیوں میں عیب تلاش کرنے اور ان کے حالات پر بلا وجہ ججمنٹ دینے میں مہارت رکھتے ہیں، جبکہ اپنی خامیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ احساس کا یہی زوال ہماری اجتماعیت کو تباہ کر رہا ہے۔ان رویوں کا سب سے خطرناک اثر ہمارے تعلقات اور رشتوں پر پڑا ہے۔ آج رشتوں کی بنیاد خلوص دل کے بجائے خالصتا مفاد اور ضرورت پر قائم ہو چکی ہے۔ جب تک اپنوں سے معاشی یا ذاتی فائدے کی امید رہتی ہے، رشتے قائم رہتے ہیں؛ لیکن جیسے ہی کوئی شخص مصیبت یا تنگ دستی کا شکار ہوتا ہے، خون کے رشتے بھی منہ پھیر لیتے ہیں۔ خون سے زیادہ اب پیسہ رشتوں کی نزدیکی اور دوری طے کرتا ہے۔اگر ہم ایک بہترین اور پرسکون معاشرہ بنانا چاہیں، تو ہمیں مادیت پرستی کے اس دائرے سے باہر نکلنا ہوگا۔ رشتوں میں خلوص، رویوں میں لچک اور دلوں میں دوسروں کے لیے وسعت پیدا کرنا ہی اس تلخی کو مٹانے کا واحد حل ہے۔
خاک زادہ