احساسِ برتری اور خاموش مظلومیت

معاشرے میں لوگ اکثر دوسروں کی عزت اس لیے نہیں کرتے کہ وہ ان کے اخلاق سے متاثر ہوتے ہیں، بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ان کے عہدے، طاقت یا دولت سے ڈر سا رکھتے ہیں۔ انسان کی حقیقی فطرت کا امتحان تب ہوتا ہے جب اسے کسی ایسے شخص پر مکمل اختیار مل جائے جو اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتاہو جیسے کوئی ملازم، کوئی غریب رشتہ دار یا کوئی لاچار انسان۔ تب انسان کے اندر کا فرعون باہر آتا ہے۔ ہم اپنے سے زیادہ حیثیت رکھنے والے کے سامنے بچھ جاتے ہیں اور اپنے سے کم حیثیت رکھنے والے کی عزت کو تار تار کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ یہ دوہرا رویہ ثابت کرتا ہے کہ ہماری تمیز اور اخلاق اندرونی تربیت کا حصہ نہیں، بلکہ محض طاقت کا خوف ہے۔

خاک زادہ

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top