ہم میں سے اکثر لوگ ماضی کی تلخ یادوں، دوسروں کی زیادتیوں کو سالوں تک اپنے ساتھ لیے گھومتے ہیں۔ کوئی ایک بات یا ایک واقعہ جو اذیت ناک ہو ہمارے ذہن میں گھر کر جاتا ہے اور ہم بار بار اس دکھ کو نہ چاہتے ہوئے بھی یاد کر بیٹھتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سامنے والے کو معاف نہ کر کے ہم اسے کوئی سزا دے رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس اذیت کا بوجھ صرف ہم خود اٹھا رہے ہوتے ہیں۔معاشرے کے لحاظ سے معاف کرنے والے کو اکثر کمزور سمجھا جاتا ہے۔ لوگ سوچتے ہیں کہ اگر درگزر کر دیا تو شاید دوسرا انسان ہم سے زیادہ طاقت ور نظر آئے گا۔ لیکن حقیقت میں معاف کر دینا دوسرے کے لیے نہیں بلکہ اپنے اندر کے سکون کے لیے ضروری ہوتا ہےجب ہم کسی کو معاف کرتے ہیں، تو ہم اپنے آپ کو اس ذہنی اذیت یا قید سے آزاد کر دیتے ہیں۔ جو انسان درگزر کرنا سیکھ جاتا ہے، اس کا دل بڑا ہو جاتا ہے اور اس کے رویے میں ایک عجیب سا اطمینان اور ٹھہراؤ آ جاتا ہے۔
خاک زادہ