ہماری سب سے بڑی معاشرے کے لحاظ سے کمزوری شاید یہ ہے کہ ہم سمجھنے سے پہلے فیصلہ کر لیتے ہیں۔ کسی نے جواب نہیں دیا تو ہم نے اسے بدتمیز کہہ دیا، کسی نے ملاقات سے انکار کیا تو اسے مغرور سمجھ لیا اور کسی نے تعلق میں فاصلے پیدا کیے تو اسے بے حس قرار دے دیا۔ ہمیں یہ جاننے کی ضرورت کبھی محسوس ہی نہیں کی کہ شاید اس شخص کے پاس کوئی ایسی وجہ ہو جس کا ہمیں علم نہیں۔اس شخص کے کسی کے ایک رویے کو اس کی پوری شخصیت بنا دینا انصاف نہیں۔ انسان حالات کے ساتھ بدلتا ہے، کبھی اپنی مرضی سے اور کبھی مجبوری میں۔ اس لیے کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے اپنی سوچ کو اس قدر وسیع کر لیں کہ جو رائے قائم کی گئی ہے اس میں حقیقت کتنی ہے؟، تو شاید بہت سے رشتے ٹوٹنے سے بچ جائیں۔
خاک ذادہ