ہم ایک ایسے ماحول میں سانس لے رہے ہیں جہاں لوگ دوسرے انسانوں کے وقت، محنت اور زندگی کی کوئی قیمت نہیں سمجھتے۔ ہم دوسروں سے تو یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے ایک اشارے پر حاضر ہوں، لیکن جب ان کا وقت اور طاقت ختم ہو جاتی ہے، تو ہم اسے ان کا محض فرض سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔ کسی کی زندگی کے قیمتی سال، اس کی جوانی اور اس کے اعصاب کو استعمال کر کے بھول جانا یہاں ایک عام سی بات ہے۔ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ جو وقت اور صلاحیت وہ کسی سے چھین رہے ہیں، وہ دوبارہ کبھی لوٹ کر نہیں آئے گی۔ انسان کی زوال پذیری کا آغاز تب ہوتا ہے جب وہ دوسروں کے وقت کی قدر کو پامال کرنا شروع کر دیتا ہے۔
خاک زادہ