جو ہمیں جانتے تھے

کبھی کبھی انسان کو دوسروں کی باتیں اتنی تکلیف نہیں دیتیں جتنی اُن لوگوں کی خاموشی اور رویّہ دکھ دیتا ہے جو اسے قریب سے جانتے ہیں۔ جن لوگوں نے آپ کے ساتھ وقت گزارا ہو، آپ کی طبیعت دیکھی ہو، آپ کی سوچ سمجھی ہو اور آپ کے مزاج کے اتار چڑھاؤ سے واقف ہوں، اُن سے کم از کم اتنی توقع ضرور ہوتی ہے کہ جب آپ کے بارے میں کوئی غلط فہمی پھیلائی جائے تو وہ حقیقت جاننے کے باوجود خاموش تماشائی نہیں بنیں گے۔مگر عجیب بات یہ ہے کہ بعض اوقات اجنبیوں سے زیادہ مایوسی اپنے ہی لوگوں سے ہوتی ہے۔ آپ کے خلاف کوئی بات شروع ہو تو وہ یہ کہنے کے بجائے کہ “نہیں، میں اسے جانتا ہوں، یہ بات اس کی طبیعت کے مطابق نہیں”، الٹا اُس گفتگو میں دو چار باتیں اپنی طرف سے بھی شامل کر دیتے ہیں۔ کبھی مذاق کے نام پر، کبھی محفل کا ساتھ دینے کے لیے اور کبھی شاید صرف اس لیے کہ اُنہیں کسی کی طرف کھڑا ہونا مشکل لگتا ہے۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت کیا ہے، مگر پھر بھی وہ حقیقت کا ساتھ دینے کے بجائے بات کو مزید رنگ دے دیتے ہیں۔شاید دکھ اس بات کا نہیں ہوتا کہ کسی نے آپ کو غلط سمجھ لیا؛ دکھ اس بات کا ہوتا ہے کہ جسے آپ نے سمجھا تھا کہ وہ آپ کو جانتا ہے، وہ بھی آپ کی وضاحت کرنے کے بجائے آپ کے بارے میں بننے والی غلط رائے میں اپنا حصہ ڈال دے۔ کیونکہ اپنوں سے ہر وقت تعریف نہیں چاہیے ہوتی، بس اتنی سی امید ہوتی ہے کہ جہاں آپ کے بارے میں غلط بات ہو رہی ہو، وہاں کم از کم وہ آپ کو غلط ثابت کرنے کے لیے نہیں بلکہ حقیقت واضح کرنے کے لیے کھڑے ہوں گے۔رشتوں کی اصل پہچان شاید ساتھ بیٹھ کر ہنسنے میں نہیں، بلکہ اُس وقت ہوتی ہے جب آپ موجود نہ ہوں اور آپ کا ذکر ہو رہا ہو۔ وہاں اگر کوئی آپ کی غیر موجودگی میں بھی آپ کی عزت، نیت اور حقیقت کا خیال رکھے، تو سمجھ لیجیے کہ وہ صرف آپ کو جانتا نہیں، سمجھتا بھی ہے۔

خاک زادہ

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top