ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں انسان کی زندگی کی قیمت کسی ہسپتال کے کاؤنٹر پر جمع ہونے والے بل سے طے ہوتی ہے۔ جب کوئی حادثہ یا بیماری کسی غریب پر نازک وقت لاتی ہے، تو مسیحا کہلانے والے اداروں کی پہلی ترجیح مریض کی نبض سنبھالنا نہیں، بلکہ اس کے جیب کا جائزہ لینا ہوتی ہے۔ تڑپتے ہوئے انسان کو وینٹی لیٹر یا ادویات صرف اس لیے نہیں ملتی کیونکہ اس کے پاس کاغذ کے چند نوٹ نہیں ہوتے۔ انسان کو تڑپ تڑپ کر دم توڑتے دیکھنا اور محض کاغذی کارروائی یا پیسوں کی عدم ادائیگی پر اسے سڑک پر پھینک دینا اس معاشرے کی وہ مردہ دلی ہے جس پر روح کانپ اٹھتی ہے۔ پیسے کا یہ بت انسان کے اندر سے رحم کی آخری رمق بھی نگل چکا ہے۔