انسان کی اصلیت تب سامنے نہیں آتی جب وہ آپ سے فائدہ حاصل کر رہا ہو، بلکہ تب ظاہر ہوتی ہے جب اسے آپ سے مزید کسی فائدے کی امید نہیں رہتی۔ لوگ اکثر رشتوں کو احساس یا محبت کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اپنی ضرورت اور سہولت کے حساب سے قائم رکھتے ہیں۔ جب تک آپ ان کے کام آتے رہیں گے، آپ کی خامیاں بھی ان کی نظر میں ہنر لگیں گی، اور جس دن آپ ان کی توقعات پر پورا اترنا بند کر دیں گے، اسی دن آپ کی تمام اچھائیوں پر ایک ہی لکیر کھینچ دی جائے گی۔ انسان کا رویہ موسم کی طرح نہیں بدلتا، بلکہ اس کی ضرورت کے تحت بدلتا ہے۔
خاک ذادہ