معاشرے میں اکثر لوگ کسی کی خاموشی کو اس کی کمزوری یا کم عقلی سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہوتا۔ انسان ہمیشہ بلاوجہ خاموش نہیں ہوتا۔ بعض اوقات انسان کے اندر دکھوں کا ایسا طوفان ہوتا ہے جسے بیان کرنے کے لیے الفاظ چھوٹے پڑ جاتے ہیں، اور وہ خاموشی کا سہارا لے لیتا ہے۔کسی کے صبر اور اس کی خاموشی کا مذاق اڑانا انسان کی اپنی اخلاقی گراوٹ کو ظاہر کرتا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ سامنے والا انسان اپنی زندگی میں کس ذہنی اذیت یا دور سے گزر رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس کی خاموشی اس کا اپنے رب پر توکل ہو، یا پھر وہ رشتوں کے بھرم کو بچانے کے لیے چپ چاپ سب کچھ سہہ رہا ہو۔ہمیں چاہیے کہ معاشرے میں لوگوں کے رویوں کو باریکی سے سمجھیں۔ کسی کی خاموشی پر طنز کرنے کے بجائے اس کے دکھ کو بانٹنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر ہم کسی کی تکلیف کو کم نہیں کر سکتے، تو کم از کم اپنے الفاظ کے تیروں سے اس کے دل کو مزید زخمی تو نہ کریں۔ آخر میں انسان اپنے الفاظ سے نہیں، بلکہ دوسروں کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویوں سے ہی پہچانا جاتا ہے