غیبت، پیٹھ پیچھے باتوں کا ظاہر

معاشرے میں سب سے عام اور سب سے خطرناک رویوں میں سے ایک غیبت ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے سامنے مسکراتے ہیں،ایک دوسرے کی تعریف کرتے ہیں، اور دوست ہونے کا مظاہرہ کرتے ہیں، مگر جیسے ہی وہ شخص وہاں سے جاتا ہے، باتیں بدل جاتی ہیں۔ اس کی خامیوں، غلطیوں، اور ذاتی معاملات پر باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ عمل اتنا عام ہو چکا ہے کہ اب اسے محفل کا سمجھا جانے لگا ہے۔ محفلیں غیبت کے بغیر ادھوری محسوس ہوتی ہیں، اور جو شخص دوسروں کی بات نہیں کرتا اسے بورنگ قرار دے دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غیبت صرف بات نہیں، بلکہ اعتماد کے قتل کا ایک خاموش طریقہ ہے۔ جب کسی کی پیٹھ پیچھے بات کی جاتی ہے تو اس شخص کا وقار آہستہ آہستہ کم کیا جا رہا ہوتا ہے،۔ اس عمل کا سب سے برا پہلو یہ ہے کہ یہ عمل کرنے والے کو بھی اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ وہ شخص جو دوسروں کی خامیاں نکالتا رہتا ہے، خود کبھی اپنی طرف نہیں دیکھتا۔ وہ دوسروں کے عیب تلاش کرنے میں اتنا مصروف ہو جاتا ہے کہ اپنی خامیاں نظر نہیں آتیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرے میں اعتماد ختم ہو جاتا ہے، رشتے کمزور پڑ جاتے ہیں، اور لوگ ایک دوسرے سے ڈرنے لگتے ہیں۔ جو بات آج کسی اور کے بارے میں ہو رہی ہے، کل اسی محفل میں خود اس شخص کے بارے میں ہو سکتی ہے۔ غیبت کا حل صرف یہ ہے کہ انسان خود فیصلہ کرے کہ وہ اس زہر کا حصہ نہیں بنے گا۔ جو شخص دوسروں کی غیر موجودگی میں بھی ان کا احترام کرتا ہے، وہ اپنے ضمیر کے سامنے بھی مطمئن رہتا ہے اور اس کو بھی احترام دیا جاتا ہے اس کی غیر موجودگی میں۔

خاک زادہ

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top