ہم ایک ایسے مالیاتی نظام اور معاشی خوف میں جکڑے ہوئے ہیں جہاں ہر انسان صرف “بقا” کی جنگ لڑ رہا ہے۔ جب انسان کا پورا دن صرف روٹی، کپڑا اور بل ادا کرنے کی فکر میں گزر جائے، تو اس کے اندر کی تخلیقی صلاحیت، اس کی سوچنے کی طاقت اور اس کے بڑے خواب آہستہ آہستہ دم توڑ دیتے ہیں۔ اس معاشرے نے انسان کو ایک مشین بنا دیا ہے جو صرف صبح اٹھتی ہے، کام کرتی ہے اور رات کو تھک کر سو جاتی ہے۔ جب معاشرے سے معاشی سکون ختم ہو جائے، تو وہاں سے ادب، فن، دانشمندی اور ایجادات کا خاتمہ بھی خود بخود ہو جاتا ہے۔
خاک زادہ