خاندان کو معاشرے میں سب سے مقدس رشتہ قرار دیا جاتا ہے، مگر حقیقت اس سے مختلف ہوتی ہے۔ بہت سے گھروں میں محبت کے نام پر کنٹرول ہوتا ہے، خیال رکھنے کے نام پر ذہنی دباؤ ہوتا ہے، اور اپنائیت کے نام پر خاموشی ہوتی ہے۔ والدین اولاد سے توقعات رکھتے ہیں جو کبھی وہ کھل کر اولاد سے بیان نہیں کی کر تے، مگر ان کی کسی بھی حوالے سے ناکامی پر مایوسی ضرور ظاہر کی جاتی ہے۔ اولاد والدین کی قربانیوں کا ذکر سنتے سنتے اس بوجھ تلے دب جاتی ہے کہ وہ کبھی اپنے خوابوں کو پورا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ بہن بھائیوں کے درمیان مقابلہ پیدا کر دیا جاتا ہے، کامیابی کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا جاتا ہے، اور محبت مشروط بنا دی جاتی ہے۔ بہت سے گھروں میں باتیں تو ہوتی ہیں مگر سمجھداری نہیں ہوتی۔ لوگ ایک ہی چھت تلے رہتے ہیں مگر دل کے فاصلے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ تکلیف کے وقت خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے، مسائل کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اور سب کچھ ٹھیک ہونے کا ناٹک کیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خاندان کے افراد ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں، حالانکہ جسمانی طور پر قریب ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ باہر دنیا میں مسکراتے ہیں مگر گھر پہنچ کر ایک قسم کے غائب ہو جاتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کے مسائل کو کوئی نہیں سمجھے گا، اس لیے وہ خاموش رہنا بہتر سمجھتے ہیں۔ حقیقی اپنائیت تب پیدا ہوتی ہے جب لوگ ایک دوسرے کی خاموشی کو بھی سمجھیں، ایک دوسرے کی کمزوری کو قبول کریں، اور بغیر کسی شرط کے ساتھ کھڑے رہیں۔ مگر ایسا خاندان نایاب سے ہو چکے ہیں۔ زیادہ تر گھروں میں محبت کا لفظ استعمال تو کیا جاتا ہے، مگر اس کا عملی روپ بہت کم نظر آتا ہے۔ جو شخص اس تلخی کو سمجھ لیتا ہے، وہ کم از کم اپنے رویے کو بدلنے کی کوشش کرتا ہے، چاہے باقی نہ بدلیں۔
خاک زادہ