انسان جب معاشرے میں قدم رکھتا ہے تو اسے آہستہ آہستہ یہ سکھایا جاتا ہے کہ اصل چہرہ دکھا کر نہیں چلنا ۔ چہرے پر مسکراہٹ لازمی ہے،لہجے میں نرمی ضروری ہے، اور اپنی تکلیف کو چھپانا بہادری سمجھا جاتا ہے۔ لوگ صبح اٹھتے ہی ایک ایسا چہرہ اپنا لیتے ہیں جو ان کا نہیں ہوتا۔ وہ باتوں میں ہنسی کو لیتے ہیں، تعریفیں کرتے ہیں، اور خوشی کا ڈھونگ رچاتے ہیں تاکہ معاشرہ انہیں قبول کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشرہ سچائی کو برداشت نہیں کرتا۔ اگر کوئی اپنی کمزوری کا اظہار کرے تو اسے کمزور کہا جاتا ہے، اگر درد اور تکلیف کا ذکر کرے تو شکوے اور شکایت کرنے والا بنا دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان سالوں تک اداکاری کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ خود بھی بھول جاتا ہے کہ اس کا حقیقی چہرہ کیا تھا۔ رات کی خاموشی میں جب سب سوتے ہیں اور چہرے سے ماسک اتارا جاتا ہے، تب ایک گہرا خالی پن نظر آتا ہے۔ وہ خالی پن جو جھوٹی مسکراہٹوں، جھوٹی خوشیوں اور جھوٹے تعلقات نے پیدا کیا ہوتا ہے۔ انسان اتنے لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی تنہا محسوس کرتا ہے کیونکہ اس کے اردگرد کوئی اس کی اصل پہچان تک نہیں پہنچتا۔ سب صرف ظاہری چمک دیکھتے ہیں، اندر کی ٹوٹ پھوٹ کو نہیں۔ یہ قید اتنی مضبوط ہو جاتی ہے کہ بہت سے لوگ زندگی بھر اسی جھوٹے چہرے کے ساتھ جیتے رہتے ہیں اور بلآخر مر جاتے ہیں۔ حقیقی آزادی تب ملتی ہے جب انسان فیصلہ کر لے کہ وہ اپنے حقیقی چہرے کے ساتھ رہے گا، چاہے معاشرہ اسے اگنور کر دے۔ مگر یہ فیصلہ آسان نہیں، کیونکہ سالوں کی عادت ایک رات میں نہیں بدلتی۔ انسان جب اس قید کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے تنہائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن وہ تنہائی نہیں ہوتی، بلکہ اس کی اپنی حقیقت ہوتی ہے۔ جس میں سکون ہوتا ہے، کیونکہ اب اسے کسی کے لیے اداکاری کرنے کی ضرورت نہیں ۔ معاشرہ شاید اسے عجیب سمجھے، لیکن وہ شخص کم از کم اپنے آپ سے جھوٹ نہیں بولتا۔ اور یہی سب سے بڑی آزادی ہے۔
خاک زادہ